Title of article
غدير، پيغام ابدي
Author/Authors
عابدي ، بتول فاطمه جامعة المصطفي العالمية , رضوي ، محمد اختر جامعة المصطفي العالمية
From page
161
To page
172
Abstract
عالم بشريت كے پيشوا خاتم النبين حضرت محمدﷺ نے سن ۱۰ ھ ميں اپني حيات طيبہ كے آخري حج سے واپسي پر،حاجيوں كے منتشر ہونے سے پہلے،تمام لوگوں كو غدير خم كے ميدان ميں روك كر، اپنے بعد امت مسلمہ كو فتنہ و فساد سے بچانے كےليے ايك اہم ترين اعلان فرمايا۔ يہ اعلان خاص و عام ميں مقام كي مناسبت سے ’’علان غدير‘‘ كے نام سے مشہور ہے۔تاريخ سےتھوڑي بہت بھي واقفيت ركھنے والا ہر شخص يہ جانتا ہے كہ بعدِ رحلت رسولؐ اعلان غدير كومسلمانوں كي اكثريت نے فراموش اورنظر اندز كرديا ۔تاريخ كے اس اہم واقعہ كو ۱۴۲۷ سال ہوچكے ہيں۔سوال يہ ہے كہ اس طويل عرصے ميں پيغام غدير كن نشيب و فراز سے گزرا۔ اور اس سے بھي بڑھ كراہم سوال يہ ہے كہ آج كے جديد دور ميں اس پيغام كي كيا اہميت ہے؟ كيا آج بھي يہ پيغام اسلامي معاشرے كے قيام كے ليے اتنا ہي ضروري ہے جتنا اس وقت تھا ؟آج ايك عام كي انسان كي زندگي ميں اس كا كيا كردار ہے؟
Keywords
ولايت , غدير , حديث غدير , پيغام ابدي
Journal title
Journal of Pure Life
Journal title
Journal of Pure Life
Record number
2736802
Link To Document