• شماره ركورد كنفرانس
    5558
  • عنوان مقاله

    عالمي سياست پر امام خميني(س ح) اور انقلاب اسلامي ايران كے اثرات

  • عنوان به زبان ديگر
    a
  • پديدآورندگان

    سعيدي شگري فرمان علي Farman.shigari@gmail.com جامعه المصطفي , باقري بيدهندي ناصر جامعه المصطفي

  • تعداد صفحه
    14
  • كليدواژه
    عالمي سياست , امام خميني , گام دوم انقلاب , انقلاب اسلامي
  • سال انتشار
    1399
  • عنوان كنفرانس
    گام دوم انقلاب اسلامي از منظر قرآن و حديث
  • زبان مدرك
    فارسي
  • چكيده فارسي
    بيسويں عيسوي صدي كے آخر ميں اسلامي انقلاب ايران كا وقوع پذير ہونا، بہت ہي اہميت كا حامل ہے ،جسكي مختلف زاويوں سے دقت كے ساتہ مطالعہ كي ضرورت تو پہلے سے ہي تھي۔ بعض مكاني اور زماني خصوصيات اور خطے ميں اسكے بڑھتے ہوے اثرات كي وجہ سے اسكي اہميت اب اور بھي بڑھ گئي ہے، ايران اس وقت عالمي تجزيہ نگاروں اور سياست دانوں كي توجہ كا مركز بنا ہوا ہے ۔ ايران كا اسلامي انقلاب ايسے وقت ميں كامياب ہوا جب دنيا بھر ميں دين كا سماجي اور سياسي چہرا عالمي منظر سے ناپيد ہوتا جارہا تھا اور اسلامي حكومت كا تصور ايك قصہ پارينہ ہوچكا تھا-اگرچہ آج جبكہ انقلاب كو برٍپا ہوۓ 40 برس ہوچكے ہيں اور سامراجي طاقتوں كي تمام تر كوششوں كے باوجود نہ صرف خطے كي سب سے مظبوط فوجي اور سياسي لحاظ سے بانفوذ قدرت بن چكا ہے جسكو معروف برطانوي تجزيہ نگار رابرٹ فكس اسطرح تحليل كرتے ہوۓ نظر آتے ہيں ايران كے ہاتھوں عراق اور شام ميں داعش كي شكست كے بعد مشرق وسطي ميں امريكہ كي خارجہ پاليسي عملا ناكام ہوچكي ہے ،مغربي استعماري طاقتوں سے مرعوب كچھ اہل قلم كيليے اب بھي اسلامي سياسي نظريہ كانفاذ غير ممكن نظر آتے ہے۔انقلاب ايران ايسے وقت ميں كامياب ہوا جب شاہ كي حكومت كو امريكہ اور مغربي طاقتوں كي پھر پور حمايت حاصل تھي۔ ايران اور اسكے ہمسايہ ممالك انرجي كے مركز تھے، يہ علاقہ عالمي اقتصاد كے لئے ريڑہ كي ہڈي كي حيثيت ركھتا تھا۔ جسكا كنٹرول امريكہ كے ہاتھ سے نكل كر انقلابي قيادت كے ہاتھ ميں آگيا تھا۔ جن كي اولين ترجيحات استكباري نظام اور استعماري سياست كا خاتمہ اور اسلامي قوانين كا نفاذ تھا، يہ وہ مقاصد تھے جن كيليے اسلامي تنظيميں اور خطے كے مسلمان اپنے اپنے طور پر گذشتہ ايك صدي سے كوشش كررہے تھے ۔ اس ليے انقلاب نے اسلامي دنيا كے مسلمانوں كے دل ميں اپنے ممالك ميں بھي اسلامي حكومت كے قيام كي آرزو اور اسكے ليے كوششں كرنے والوں ميں اميد كي تازہ روح پھونك دي۔ البتہ دوسري طرف سے ايران خطے كي استبدادي اور شہنشاہي حكومتوں كے درميان فاصلے بڑھ گئے جو ايك طبيعي عكس العمل تھا كيوں كہ عرب حكمران بہ خوبي آگاہ تھے كے يہ انقلاب ايران تك محدود نہي رہے گا،عنقريب انكي عوام بھي آزادي اور اسلامي حكومت كا مطالبہ كرينگے ۔ دوسري طرف سے ايك ايسي آزاد اسلامي حكومت كا قيام، جس كا نعرہ نہ شرقي و نہ غربي تھا ،مغربي دنيا سے بھي اس كے تعلقات پر اثر پڑا كيونكہ اس انقلاب سے يورپي خاص كر امريكي معاشي اور سياسي منصوبوں كو شديد دھچكا لگا اور ان كے مفادات خطرے ميں پڑ گئے۔ اس ليے انقلاب كے فورا بعد صدام حسين نے ايران عراق سے امن معاہدہ كي يك سر خلاف ورزي كرتے ہوے ،امريكہ ،يورٍپ اور خطے كي بعض حكومتوں كي مالي،تسليحاتي اور فوجي مدد كے ساتھ ايران پر حملہ كيا گيا، اور يورپي حكومتوں كي طرف سے فراہم كردہ كيميكل ہتياروں سے بے گناہ شہريوں پر حملے كر كے ہزاروں بے گناہ انسانوں كا قتل عام كيا گيا۔اور ان ہي انساني حقوق اور جمہوريت كے دعوے دار طاقتوں نے اپني نا حق ويٹو پاور كو استعمال كركے ہوۓ صدام جيسے ڈكٹيٹر كے خلاف پيش ہونے والي كسي بھي مزمتي قرارداد كو كامياب نہ ہونے ديا۔انقلاب كے عالمي اثرات كو ايران كي جيوپوليٹك اور جيو اسٹراٹيجك حيثيت نے اور زيادہ شدت بخشي۔ يہ انقلاب ليبريزم اور سوشليزم كے مقابلے ميں ، تيسري دنيا كے مستعضف اور پسے ہوے عوام ليے ايك رول ماڈل اورآرمان ميں بدل ہو گيا۔ جس كے نتيجہ ميں عالمي سياست ميں اسلامي انقلاب ايك تيسري نئي قوت اور نظريہ كي صورت ميں ابھر كے سامنے آيا ۔
  • كشور
    ايران