شماره ركورد كنفرانس
5558
عنوان مقاله
انسان كو رسم و رواج اور خرافات سے آزادي دينے ميں دين كا كردار (آيت اللہ خامنئ كے نظريات كي روشني ميں)
پديدآورندگان
صبوحي عزيزه فاطمه z.masoom14@gmail.com حوزه علميه بنت الهدي
تعداد صفحه
20
كليدواژه
انسان كو , رسم و رواج , اور خرافات , سے آزادي دينے , ميں دين كا كردار
سال انتشار
1399
عنوان كنفرانس
گام دوم انقلاب اسلامي از منظر قرآن و حديث
زبان مدرك
فارسي
چكيده فارسي
انساني سماج ميں طرح طرح كي رسم و رسومات رائج ہوتي ہيں. وہ افكار وہ قوانين يا وہ طريقے جو كچھ لوگوں كے ساتھ رہنے كے سبب خود بہ خود وجود ميں آجاتے ہيں. ان ميں سے بعض عقلانيت اور فطرت سے سازگار ہوتے ہيں اور بعض جہالت اور اوہام كا نتيجہ!قرآن كريم نے اس زمانے ميں رائج بعض خرافي عقيدوں كي طرف اشارہ كيا. حتي ان لوگوں كو جو دين اور معاد كو خرافہ كہتے تھے دندان شكن جواب بھي ديا. اس تحقيق ميں خرافات كے معني اور اسكے اقسام كے ذكر كے ساتھ قرآن كريم كي ان آيات پر نظر ڈالي گئ ہے جو ان خرافات كا ذكر كر رہي ہيں جو زمان نزول قرآن، عرب معاشرے ميں رائج تھيں. اسي كے ساتھ آج كے مسلم معاشرے ميں موجود خرافات اور رسم و رواج كا ذكر كرنے كے ساتھ ، مقام معظم رہبري كے نظريات بيان ہوۓ جو ہم كو بتاتے ہيں كہ ان رسم و رسومات كو دين اسلام كس نظر سے ديكھتا ہے. آيت اللہ خامنئ كي نظر ميں لازم ہے ان رسم و رسومات كو تجزيہ تحليل كيا جاۓ اور ان كي نوعيت كے حساب سے انكے ساتھ سلوك كيا جاۓ انميں سے بعض كو حذف ، يعض كو اصلاح و ترميم اور بعض كو جاري رہنا چاہۓ.
كشور
ايران
لينک به اين مدرک