• شماره ركورد كنفرانس
    5558
  • عنوان مقاله

    معاشرتي اصلاح كے ليے امام رضا عليہ السلام كي سياسي سيرت

  • عنوان به زبان ديگر
    A
  • پديدآورندگان

    مقدسي شيرمحمد bashovi786@yahoo.com جامعه المصطفي

  • تعداد صفحه
    16
  • كليدواژه
    امام رضا , سياست , تدبير , امامت ولايت , معاشرہ
  • سال انتشار
    1399
  • عنوان كنفرانس
    گام دوم انقلاب اسلامي از منظر قرآن و حديث
  • زبان مدرك
    فارسي
  • چكيده فارسي
    رہبران الہي كي صفات وذمہ داريوں ميں سے ايك معاشرتي اصلاح ہےجس كے ذريعے وہ معاشرہ كي تعمير وترقي كيلئے بنيادي كردار ادا كرتے ہيں۔معاشرے ميں بسنے والے افراد كي ان اہداف سے ناآشنائي اور بعض لوگوں كي خود غرضي كي وجہ سے ہميشہ رہبران حق كو اصلاحي راہ ميں مشكلات درپيش رہي ہيں۔اسلام كے حقيقي پيشوا اور پيمبر ختمي مرتبت كے وارثين برحق ہونے كے لحاظ سے ائمة معصومين نےقرآن و سنت كے جامع نظام كي روشني ميں معاشرتي اصلاح كا ايك مكمل سسٹم پيش كيا۔جس ميں دين،سياست سے جدا نہيں۔بلكي سياست معاشرہ كي اصلاح كا سب اہم ذريعہ ہے۔ليكن مخالفين اسلام نے ہميشہ سے سياست كو دين سے الگ ركھنے كي كوشش كي۔يہ ايك ناقابل انكار حقيقت ہےكہ اسلامي قوانين سياسي پہلو كے بغير معاشرے ميں قابل نفاذ نہيں ہے۔اسلام كا اصل مقصد ہي يہي ہے كہ روئے زمين پر خدا كي حكومت قائم ہو۔اسي ليےايك لاكھ 24 ھزار انبياء مبعوث ہوئے ۔ ان سب كا ہدف زمين پر الہي قوانين كا اجرا ونفاذ تھا۔جيسا كہ يہ بات روشن ہے جب رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلم بعثت سے پہلے لوگوں كے درميان صادق و امين سے معروف تھے جوں ہي رسالت كااعلان ہوا۔ساحر اور كاذب كہ كر مخالفت شروع وئي۔كيونكہ لوگ جانتے تھے يہ صرف تبليغ دين كے ليے نہيں بلكہ زمين پر ايك الہي حكومت كاقيام آپ كامقصد ہے۔ اس صورت ميں بعض لوگوں كي مفادات خطرے ميں پڑ جاتے تھے۔انبياء كا كام صرف ان كے عقائد درست كرنا نہيں بلكہ انسان كي طرز زندگي كو تبديل كرنا تھا اسلئے انھوں نے عقيدے كے ساتھ سياسي اصلاح اور حكومت اسلامي كے قيام كي كوشش كي۔ائمہ طاہرين نے وارث پيغمبر ہونے كے ناطےآپ كے انہي اہداف كو آگے بڑھائے مگر ہر ہر امام كي روش اور طريقہ ايك دوسرے سے مختلف تھا۔ہر ايك نے اپنے ادوار كے تقاضوں كے مطابق مبارزے كي روش اپنائي۔جيسا كہ امام علي عليه السلام نے اپنے دور كے مطابق ايك روش اپنائي۔ دوسرے اماموں نے اپنے دور كے مطابق ۔امام رضا ع كي جب نوبت آئي تو اس وقت بنو عباس كي حكومت عروج پر تھي اور شيعوں پر ظلم ستم كي پہاڑ گرا رہے تھے امام عليه السلام نے بصيرت كے ساتھ كا مقابلہ كيا۔ زير نظر مقالہ ميں ّامام رضا عليہ السلام كے معاشرتي اصلاح كے سياسي طريقہ كار كو بيان كرنا مقصود ہے۔جو آپ نے اس پر آشوپ دورميں اسلام كي بقا و اشاعت كے ليے اپنايا۔
  • كشور
    ايران